No icon

ایک ملین ڈالر جلا دئیے

کینیڈین کاروباری شخص نے سابقہ بیوی کو نان نفقہ دینے سے بچنے کے لیے ایک ملین ڈالر جلا دئیے

اوٹاہ سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری شخص نے عدالت کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ انہوں نے  سابقہ بیوی اور بچوں کو نان نفقہ دینے سے بچنے کےلیے ایک ملین ڈالر حقیقت میں جلا دئیے ہیں۔
بروس  میککونویل نے جج کو بتایا کہ انہوں نے ایک ملین کینیڈین ڈالر(7 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر) 6 ماہ میں   25 مختلف مواقع پر نکلوائے اور انہیں 2 بار میں جلا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ  انہوں نے 23 ستمبر کو 7 لاکھ 43 ہزار کینڈین ڈالر اور 15 دسمبر کو 2 لاکھ 96 ہزار کینیڈین ڈالر جلائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس عدالت سے نکلوائی گئی رقم کی رسیدیں موجود ہیں لیکن بروس  رقم کو جلانے کا کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اُن کے پاس رقم جلانے کی ویڈیو فوٹیج بھی موجود نہیں ہے۔بروس نے عدالت کوبتایا کہ یہ رقم انہوں نے عدالتی کاروائی سے پریشان ہو کر جلائی، حالانکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے بچوں کے حق میں اچھا نہیں کر رہے۔

سپیرئیر کورٹ کے جج کیون فلپس نے بروس کی کہانی پر یقین کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے عدالت کا مذاق اڑنے کے متراد ف قرار دیا ہے۔ جج  نے بروس کو 30 دن کی قید کی سزا  سنائی ہے۔ جج کا کہنا ہے کہ ایک مہینے بعد بھی اگر بروس نےاصل بات نہ بتائی تو سز ا میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔بروس نے ابھی تک عدالت میں اپنی مالی حیثیت کا اقرارنامہ  جمع نہیں کرایا ہے، اسی لیے عدالت کو  سابقہ بیوی اور بچوں کے نان نفقہ کی رقم کا تعین کرتے ہوئے مشکل ہو رہی ہے۔

بروس نے اپنے کچھ اثاثے اپنے سابقہ اکاؤنٹنٹ کو بھی فروخت کیے ہیں، حالانکہ عدالت اُن  پر کوئی اثاثہ  فروخت نہ کرنے کی پابندی لگا چکی ہے۔حالیہ سماعت کے دوران جج کیون نے بروس  کو یومیہ 2 ہزار ڈالر جرمانہ اپنی بیوی کو ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

Comment